اچھی اور بری مشکلات

ہم جانتے ہیں کہ موت بھی مقرر ہے ، یعنی مر بھی جانا ہے اور زندگی میں صحت اور بیماری بھی ہونی ہونی ہے ۔

جب انسان کو اپنی بےبسی کا شعور ہوتا ہے تو اس کو تکلیف کا خیال آتا ہے ۔
اگر آپ کو اپنی بےبسی ، تکلیف اور مشکل کا حل نظر نہیں آرہا ، تو اس میں ایک چیز ضرور نظر آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ۔۔۔
مشکلات ، اور نہ حل ہونے والی مشکلات ، یا تو انسان کو خدا سے دُور کر دیں گی ، یا خدا کے قریب کر دیں گی ۔

اگر مشکل ، آپ کو اللّٰہ سے دُور کر رہی ہے تو یہ مشکل ، کسی قدیم بُرے عمل کی سزا ہے ۔
تو یہ مشکل ایک سزا ہے !

وہ آدمی جو مشکل میں بھی ، خدا کے پاس نہیں گیا ، اُس کے لئے ، مشکل ایک سزا ہے ۔

اور اگر مشکلات میں کسی نے اپنے آپ کو خدا کے قریب کر دیا تو ۔۔۔۔ ،
ایسی مشکلات تو ہزار بار آئیں ۔۔۔۔ !
یہ مشکل بڑی مبارک ہے کہ جس مشکل نے ، خدا کے زیادہ قریب کر دیا ۔

اب آپ اپنی مشکل کا جائزہ لو ، کہ آپ اللّٰہ کے قریب ہو گئے ہو ، کہ دُور ہو گئے ہو ؟
اگر غریبی اللّٰہ کے قریب کر دے تو غریبی مبارک !

اگر غریبی آپ کو باغی بنا دے ، تو یہ عذاب ہے ، بلکہ دوہرا عذاب ہے ۔۔۔ کہ ایک تو غریبی ہے دوسرا ، اللّٰہ سے بھی دُور ہو گیا ۔
تو اس لئے مشکلات نہ تو اچھی ہوتی ہیں ۔۔۔ اور نہ بُری ہوتی ہیں ۔

مشکلات اچھے آدمی کے لئے ، اچھی ہوتی ہیں اور بُرے آدمی کے لئے بُری ہوتی ہیں ۔ اولیائے اکرام پر مشکلات آتی ہیں ، شہدائے کرام پر مشکلات آتی ہیں ۔۔۔۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں