چینی مافیا اور عدلیہ

شوگر ملیں اپنی آمدنی کم بتا کر پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس چوری کرتی ہیں۔ عمران خان نے اس پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا۔

تحقیقاتی کمیشن کے خلاف شوگر مل مافیا عدالت کے پاس گئی اور عدلیہ نے وہ تحقیقاتی رپورٹ 9 ماہ کے لیے روک دی۔

خدا خدا کر کے رپورٹ آئی اور اس رپورٹ کی روشنی میں عمران خان نے تمام شوگر ملوں کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا۔ آڈٹ میں کنفرم ہوگیا کہ 81 شوگر ملوں نے عوام کے کم از کم 570 ارب روپے ہڑپ کیے ہیں۔

عمران خان نے عوام کی جیبوں س نکالے گئے 570 ارب روپے واپس مانگے اور ساتھ ہی شوگر ملوں سے 80 روپے فی کلو چینی خریدنے کا حکم دیا۔

شوگر ملیں پھر عدلیہ کے پاس گئیں۔ عدلیہ نے پھر شوگر ملوں کے حق میں فیصلہ دیا۔ حکومت کو عوام کے لیے سستی چینی خریدنے سے روک دیا۔ اور شوگر ملوں کو زیادہ سے زیادہ منافع پر (مہنگی) چینی فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔

امید ہے عدلیہ اگلے فیصلے میں عمران خان کو شوگر ملوں سے 570 ارب روپے کی وصولی سے بھی روک دے گی۔

البتہ حکومت شوگر ملوں کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف جتنی بار بھی عدالتوں میں گئی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسی شوگر مل کے خلاف کوئی ایک فیصلہ نہیں آیا۔

ان شوگر ملوں کی من مانی روکنے کے لیے عمران خان نے انڈیا سے 80 روپے کلو چینی خریدنے کا فیصلہ کیا جس پر عوام نے زبردست غیرت کا مظاہرہ کیا اور وہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
اگر عوام تھوڑی سی غیرت شوگر ملوں اور عدالتوں کے خلاف بھی دیکھا دیں تو شائد یہیں پر سستی چینی مل جائے۔

پاکستان میں تاجر عوام کو ٹیکس کے نام پر مہنگی چیزیں فروخت کرتے ہیں۔ لیکن وہ ٹیکس عوام سے وصول کر کے جیبوں میں ڈال لیتے ہیں۔ سالانہ کئی سو ارب روپے۔ کچھ عرصہ پہلے عمران خان نے تاجروں سے عوام کے یہ پیسے وصول کرنے کی کوشش کی تھی تب تاجروں کی یونین عدلیہ کے پاس گئی اور اپنے حق میں فیصلہ کروا کر حکومت کے ہاتھ باندھ دئیے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں