8 مارچ ایک فعاشی مارچ تھا

8 مارچ ایک فعاشی مارچ تھا جو ہماری عزتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کبھی میرا جسم میری مرضی تو کبھی یہ نعرے بھی سننے کو ملے ہیں کہ رسول بھی سن لے آزادی خدا بھی سن لے آزادی اقبال بھی سن لے آزادی اولیا بھی سن لے آزادی عمران بھی سن لے آزادی اسکا باپ بھی دیگا آزادی
ایک اسلامی جمہوریہ ملک کے اندر اگر اسلام کی گستاخی ہو اور ہمارے لبرل حکمران پھر بھی پیغام دیں کہ ہم امن پسند ہیں تو میرے خیال کے مطابق ہمیں ایسے امن سے بہتر ہے خودکشی کرلینی چاہیے آج ہم ایک اسلامی ملک اور آزاد پاکستان میں رہ کر آپنے اسلام کی گستاخیاں دیکھیں تو پھر ہمیں مسلمان کہلانے کا کوئ حق بھی نہیں پاکستان کسی لیبرل کے نام پر نہیں بنا پاکستان ننگی فلمیں یا بے حیائ پر نہیں بنا پاکستان ایک اسلام کے نام پر بنا ہے آج مسلم کہلانے والوں کو کیا یہ نعرے سنائ نہیں دے رہے کبھی اسلام کی گستاخیاں تو کبھی ہماری عزتوں کو ننگے کرنے کے پلان کبھی کشمیر کی ننھی بچیوں کو درندگی کا نشانہ تو کبھی عافیہ جیسی ننھی بیٹی پر ظلم کے پہاڑ کبھی بابری مسجد پر وار تو کبھی ایراق ایران شام فلسطین افغانستان جیسے ملکوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے جارہے پھر بھی ہم دہشت گرد ہیں آج پوری امت مسلمہ کو اسلام کے پرچم کے نیچے اکٹھے ہونے کی اہم ضرورت ہے اسلامی ریاست کے اندر فعاشی عورتوں کو رہنے کا کوئ حق نہیں آج ماروی سرمد جیسی ننگی عورتوں کو بتادو کہ اگر پاکستان میں رہنا ہے تو کلمہ طیبہ پر چلنا ہوگا ورنہ یہاں سے نکل جائیں آج ہماری عدلیہ کے اندھے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم پاکستان صاحب کہاں ہیں کیا یہ ننگی عورتوں کے کارنامے اور گستاخی والے نعرے نظر نہیں آئے افسوس اگر ختم نبوت کیلئے ہم آواز اٹھائیں تو شدت پسند اگر یہودی اسلام کی گستاخیاں کریں تو ہمارے حکمران مزاکرات اور امن کی دعوت دیتے ہیں نہ نہ اب امن ہو یا نہ ہو اسلام کا دفاع ہونا ضروری ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں